سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب فِي الاِسْتِعْفَافِ باب: سوال سے بچنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ : " الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ " ، وقَالَ أَكْثَرُهُمْ : عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، " الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ " ، وقَالَ وَاحِدٌ : عَنْ حَمَّادٍ ، " الْمُتَعَفِّفَةُ " .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا ، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ : ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ، اور اوپر والا ہاتھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے ، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎ ، عبدالوارث نے کہا : «اليد العليا المتعففة» ( اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے ) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں : «اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے ( یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے ) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎ ۔
۲؎: یعنی حماد کے تلامذہ نے بھی حماد سے روایت میں اختلاف کیا ہے ان کے اکثر تلامذہ نے ان سے «المنفقة» کا لفظ روایت کیا ہے، اور ایک راوی نے جو مسدد بن مسرہد ہیں ان سے «المتعففة» کا لفظ روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎، عبدالوارث نے کہا: «اليد العليا المتعففة» (اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے)، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں: «اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے (یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1648]
حدیث میں اس کی بھی ترغیب ہے کہ احتیاج کے باوجود بھی لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا چاہیے، بلکہ صبرو استقلال سے کام لے کر اپنے توکل علی اللہ اور خود داری کو قائم رکھتے ہوئے اپنی قوت بازو کی محنت پر گزارہ کرناچاہیے۔
(1)
اس حدیث میں اوپر والے اور نیچے والے ہاتھ کی تفسیر بھی بیان ہوئی ہے۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تفسیر راوی حدیث حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی ہے، اس بنا پر یہ تفسیر مدرج ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ ہی سے یہ تفسیر مروی ہے۔
مسند احمد میں حضرت حکیم بن حزام ؓ سے مرفوع روایت ہے کہ اللہ کا ہاتھ دینے والے کے اوپر اور دینے والے کا ہاتھ لینے والے کے اوپر اور لینے والے کا ہاتھ سب سے نیچے ہوتا ہے۔
(مسندأحمد: 402/3)
ایک روایت میں ہے کہ ہاتھ تین طرح کے ہیں: اللہ کا ہاتھ سب سے اونچا، دینے والے کا ہاتھ اس سے متصل اور سوال کرنے والے کا ہاتھ تو سب سے نیچے ہے۔
(سنن أبي داود، الزکاة، حدیث: 1649)
ان تمام روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ صدقہ وصول کرنے والا ہے۔
(فتح الباري: 375/3) (2)
امام بخاری ؒ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمان کو صاحب دولت بن کر رہنا چاہیے۔
اپنے مال سے حق زکاۃ ادا کر کے کوشش کرے کہ اس کا ہاتھ اوپر رہے اور زندگی بھر کسی کے سامنے دست سوال پھیلا کر ذلت و رسوائی مول نہ لے، احتیاج اور ضرورت کے باوجود بھی دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے بلکہ صبر و استقلال سے کام لے کر اپنی خودداری کو قائم رکھے اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی قوت بازو کی محنت پر گزارہ کرے۔
«. . . 255- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو على المنبر وهو يذكر الصدقة والتعفف عن المسألة: ”اليد العليا خير من اليد السفلى، واليد العليا المنفقة، والسفلى السائلة.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر صدقے اور مانگنے سے اجتناب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 478]
[وأخرجه البخاري 1429، ومسلم 94/1033، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ شرعی عذر کے بغیر مانگنا ممنوع ہے۔
➋ مستحق شخص کی امداد کرنے والا شخص افضل ہے۔
➌ لوگوں کی اصلاح کے لئے منبر پر مسائل بیان کرنا جائز بلکہ بہتر ہے۔
➍ اللہ کے راستے میں صدقات دیتے رہنا اہل ایمان کی نشانی ہے۔
➎ محنت کر کے مال و دولت کمانا تاکہ اس میں سے اللہ کے راستے میں، اپنے آپ پر، اپنے اہل وعیال اور دوست احباب پر خرچ کیا جائے، یہ بہت پسندیدہ کام ہے۔
➏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لايفتح الانسان عليٰ نفسه باب مسالته، الا فتح الله عليه باب فقر، يأخذ الرجل حبله فيعمد إلى الحبل فيحتطب عليٰ ظهره فيأكل به خير له من أن يسأل الناس معطيً أو ممنوعًا۔» جو شخص اپنے آپ پر سوال (لوگوں سے مانگنے) کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ اس پر فقر (غربت) کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ آدمی اپنی رسی لے کر پہاڑ پر چڑھے پھر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں (رکھ کر) لے آئے تو اُس سے (یعنی انھیں بیچ کر) کھائے۔ یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، کوئی اسے دے اور کوئی دھتکار دے۔ [مسند أحمد 2/418 ح9421 وسنده صحيح]