حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْقَدَمَيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا ، وَقَدْ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا ، قَالَ وَكِيعٌ : يَعْنِي الْخُفَّيْنِ ، وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، كَمَا رَوَاهُ وَكِيعٌ ، وَرَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَاهِرَ قَدَمَيْهِ ، وَقَالَ : لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی اعمش سے یہی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ` علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر دین ( کا معاملہ ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا ، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے ۔ اور اسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا ، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۔ وکیع کا بیان ہے کہ لفظ «قدمين» سے مراد «خفين» ہے ، وکیع ہی کی طرح اسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے ، نیز اسے ابوالسوداء نے ابن عبد خیر سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ۱؎ اور کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا ، پھر ابوالسوداء نے پوری روایت آخر تک بیان کی ۔

وضاحت:
۱؎: ابوالسوداء کی روایت میں «فغسل ظاهر قدميه» کے الفاظ آئے ہیں، بظاہر یہاں ’’غسل‘‘: ’’مسح‘‘ کے معنی میں ہے، واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ورواه وكيع عن الأعمش بإسناده , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو إسحاق السبيعي مدلس (طبقات المدلسين: 91/ 3) وعنعن, وحديث الحميدي (47،بتحقيقي) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10204) (صحیح) »