سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب مَا تَجُوزُ فِيهِ الْمَسْأَلَةُ باب: کن صورتوں میں سوال (مانگنا) جائز ہے؟
حدیث نمبر: 1639
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر ( نشان زخم ) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے ( مانگنا ) ترک کر دے ، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2600 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´آدمی کا حاکم سے مانگنے کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مانگنا خراش (زخم کی ہلکی لکیر) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر (مانگ کر) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2600]
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مانگنا خراش (زخم کی ہلکی لکیر) ہے جسے آدمی اپنے چہرے پر لگاتا ہے، تو جو چاہے اپنے چہرے پر (مانگ کر) خراش لگائے، اور جو چاہے نہ لگائے، مگر یہ کہ آدمی حاکم سے مانگے، یا کوئی ایسی چیز مانگے جس سے چارہ نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2600]
اردو حاشہ: (1) ’’نوچتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں تو واقعتا چہرہ نوچا ہوا ہوگا۔
(2) ”اپنا چہرہ نوچے۔“ یہ اجازت نہیں بلکہ ڈانٹ ہے، جیسے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے: {فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ} (الکھف: 29) ”چنانچہ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔‘‘ روایت نمبر 2599 میں بھی ڈانٹ ہی ہے کہ تم چاہو تو تمھیں زکاۃ دے دیتا ہوں ورنہ تم مستحق نہیں۔ اگرچہ یہاں کہا جا سکتا ہے کہ ان کی وقتی فقیری کے پیش نظر انھیں دیا جا سکتا تھا کیونکہ کمائی تو وہ بعد میں ہی کر سکتے ہیں۔
(3) ”صاحب اقتدار سے مانگے۔“ کیونکہ اس کے پاس مال اپنا ذاتی نہیں بلکہ عوام الناس کا ہے اور اس میں ہر شخص کا حق ہو سکتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام الناس کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم کرے۔
(4) ”جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ مثلاً: بھوکا آدمی خوراک مانگ سکتا ہے اور مریض علاج کے لیے تعاون لے سکتا ہے۔
(2) ”اپنا چہرہ نوچے۔“ یہ اجازت نہیں بلکہ ڈانٹ ہے، جیسے قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے: {فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ} (الکھف: 29) ”چنانچہ جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔‘‘ روایت نمبر 2599 میں بھی ڈانٹ ہی ہے کہ تم چاہو تو تمھیں زکاۃ دے دیتا ہوں ورنہ تم مستحق نہیں۔ اگرچہ یہاں کہا جا سکتا ہے کہ ان کی وقتی فقیری کے پیش نظر انھیں دیا جا سکتا تھا کیونکہ کمائی تو وہ بعد میں ہی کر سکتے ہیں۔
(3) ”صاحب اقتدار سے مانگے۔“ کیونکہ اس کے پاس مال اپنا ذاتی نہیں بلکہ عوام الناس کا ہے اور اس میں ہر شخص کا حق ہو سکتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام الناس کو ان کی بنیادی ضروریات فراہم کرے۔
(4) ”جس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“ مثلاً: بھوکا آدمی خوراک مانگ سکتا ہے اور مریض علاج کے لیے تعاون لے سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2600 سے ماخوذ ہے۔