سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب مَنْ يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَةِ وَحَدِّ الْغِنَى باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْأَنْبَارِيُّ الْخُتُّلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، كَمَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَرَوَاهُ شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ ، وَالْأَحَادِيثُ الْأُخَرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهَا لِذِي مِرَّةٍ قَوِيٍّ وَبَعْضُهَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ ، وقَالَ عَطَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ : أَنَّهُ لَقِيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، فَقَالَ : إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِقَوِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ .
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے ( حلال ہے ) “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے ، اس میں «لذي مرة سوي» کے بجائے «لذي مرة قوي» کے الفاظ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں «لذي مرة قوي» اور بعض میں «لذي مرة سوي» کے الفاظ ہیں ۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں : عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا : «إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے (حلال ہے)۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے، اس میں «لذي مرة سوي» کے بجائے «لذي مرة قوي» کے الفاظ ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں «لذي مرة قوي» اور بعض میں «لذي مرة سوي» کے الفاظ ہیں۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: «إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1634]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے مانگنا جائز ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 652]
1؎: ((ذِي مِرَّةٍ)) کے معنی ذی قوّۃ کے ہیں اور ((سَوِیّ)) کے معنی جسمانی طور پر صحیح و سالم کے ہیں۔
2؎:
یعنی ((لَا تَحِلُّ لَه الصَّدَقّةُ)) میں صدقہ مسئلہ (مانگنے) کے معنی میں ہے۔