سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب مَنْ يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَةِ وَحَدِّ الْغِنَى باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْمَعْنَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِثْلَهُ ، قَالَ : " وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ " ، زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ : " لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ الَّذِي لَا يَسْأَلُ وَلَا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ فَذَاكَ الْمَحْرُومُ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمُتَعَفِّفُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ وَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَجَعَلَا الْمَحْرُومَ مِنْ كَلَامِ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے` اس میں ہے : لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے ، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ ( مسکین وہ ہے ) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے ، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے ، اسی کو محروم کہتے ہیں ، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟`
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1632]
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ (مسکین وہ ہے) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1632]
1632. اردو حاشیہ: (المحروم) کا زکر سورہ معارج میں آیا ہے ۔(وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ﴿٢٤﴾ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ)(المعارج 2
➎ 24) اور (کامیاب مومنین وہ لوگ ہیں) جن کے مالوں میں ایک معلوم حق ہے۔سوال کرنے والے کا اور محروم کا یعنی ایسا مساکین جو سوال تو نہیں کرتا لیکن صدقے کا مستحق ہوتا ہے۔
➎ 24) اور (کامیاب مومنین وہ لوگ ہیں) جن کے مالوں میں ایک معلوم حق ہے۔سوال کرنے والے کا اور محروم کا یعنی ایسا مساکین جو سوال تو نہیں کرتا لیکن صدقے کا مستحق ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1632 سے ماخوذ ہے۔