سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب مَنْ رَوَى نِصْفَ، صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1621
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ : قَالَ ابْنُ صَالِحٍ : قَالَ الْعَدَوِيُّ قال أَبُو دَاوُدَ : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ : قَالَ الْعَدَوِيُّ : : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِئِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ` ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ ( جزم کے ساتھ بغیر شک کے ) کہا ۱؎ ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ۲؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا ، یہ خطبہ مقری ( عبداللہ بن یزید ) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا ۔
وضاحت:
۱؎: نعمان بن راشد اور بکر بن وائل کی جو روایت زہری سے اوپر گزری ہے اس میں شک کے ساتھ آیا ہے۔
۲؎: عدوی تصحیف ہے۔
۲؎: عدوی تصحیف ہے۔