حدیث نمبر: 1601
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، وَنَسَبَهُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ شَبَابَةَ بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ : مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ ، وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : وَكَانَ يَحْمِي لَهُمْ وَادِيَيْنِ ، زَادَ : فَأَدَّوْا إِلَيْهِ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` قبیلہ شبابہ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے ، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا : ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے ۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں : وہ ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے ، اور مزید کہتے ہیں : تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شہد کی زکاۃ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ شبابہ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا: ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں: وہ ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے، اور مزید کہتے ہیں: تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1601]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ شبابہ جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا اور کہا: ہر دس مشک میں سے ایک مشک زکاۃ ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں: وہ ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیئے ہوئے تھے، اور مزید کہتے ہیں: تو وہ لوگ انہیں اسی قدر شہد دیتے تھے جتنا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اور آپ نے ان کے لیے دو وادیوں کو ٹھیکہ پر دیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1601]
1601. اردو حاشیہ: یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔اور مذکورہ بالا حدیث کی موئید ہے۔کہ شہد کی زکواۃ دینی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1601 سے ماخوذ ہے۔