حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عَبَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ " ، وَقَالَ عَبَّادٌ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ يَعْنِي الْمِيضَأَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمِيضَأَةَ وَالْكِظَامَةَ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ۔ عباد کی روایت میں ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ ایک قوم کے «كظامة» یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے ۔ مسدد کی روایت میں «ميضأة» اور «كظامة» کا ذکر نہیں ہے ، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 160
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عطاء العامري مجھول الحال كما قال ابن القطان, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 186
تخریج حدیث « تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 1739)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جرابوں اور جوتوں پر مسح`
«. . . أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ . . .»
". . . اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا . . ." [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 160]
فائدہ:
➊ بشرط صحت (جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے) یہ روایت سابقہ روایت پر محمول ہے۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔ اور ’’قدموں پر مسح‘‘ سے مراد ایسی صورت ہے جس میں جرابیں پہنی ہوئی تھیں۔ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جوتے یا چپل کی پٹی پر مسح فرمایا جو کہ پاؤں کے اوپر ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 160 سے ماخوذ ہے۔