سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب صَدَقَةِ الزَّرْعِ باب: کھیتوں میں پیدا ہونے والی چیزوں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1598
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ ، وَحُسَيْنُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْعَجَلِيُّ ، قَالَا : قَالَ وَكِيعٌ : الْبَعْلُ الْكَبُوسُ الَّذِي يَنْبُتُ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ ، قَالَ ابْنُ الْأَسْوَدِ : وَقَالَ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ : سَأَلْتُ أَبَا إِيَاسٍ الْأَسَدِيّ ، عَنِ الْبَعْلِ ، فَقَالَ : الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ ، وقَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ : الْبَعْلُ مَاءُ الْمَطَرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وکیع کہتے ہیں` «بعل» سے مراد وہ کھیتی ہے جو آسمان کے پانی سے ( بارش ) اگتی ہو ، ابن اسود کہتے ہیں : یحییٰ ( یعنی ابن آدم ) کہتے ہیں : میں نے ابو ایاس اسدی سے «بعل» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : «بعل» وہ زمین ہے جو آسمان کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو ، نضر بن شمیل کہتے ہیں : «بعل» بارش کے پانی کو کہتے ہیں ۔