حدیث نمبر: 1597
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ ، وَمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے دریا یا چشمے کے پانی نے سینچا ہو ، اس میں دسواں حصہ ہے اور جسے رہٹ کے پانی سے سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1597
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (981)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الزکاة 1 (981)، سنن النسائی/الزکاة 25 (2491)، ( تحفة الأشراف :2895)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/341، 353) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 981 | سنن نسائي: 2491

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 981 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپﷺ نے فرمایا: ’’جس (کھیتی) کو دریا کا پانی یا بارش سیراب کرے ان میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جس کو اونٹ (وغیرہ کسی جا نور کے ذریعے) سے سیراب کیا جائے ان میں نصف عشر (بیسواں حصہ) ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2272]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
الْأَنْهَارُ: نھر کی جمع ہے۔
نهر یعنی دریا کا پانی۔
(2)
غَيْمُ: بادل، بارش مراد ہے۔
(3)
عُشُورُ: عشر کی جمع ہے دسواں حصہ۔
(4)
سَّانِيَةِ: اونٹ جس سے کنواں سے پانی نکال کر سیراب کیا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل: حدیث سے مراد یہ ہےکہ وہ پانی جو قدرتی ہے اس کو خود زمین سے نکالنا نہیں پڑتا، اس پر دسواں حصہ ہے۔
لیکن اس صورت میں جب پیدا وار نصاب یعنی پانچ وسق یا اس سے زائد ہو، اور اگر پانی خودزمین سے نکالا جائے۔
تو چونکہ اس پر محنت ومشقت زیادہ کرنی پڑتی ہے اس لیے اس پر بیسواں حصہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 981 سے ماخوذ ہے۔