سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب رِضَا الْمُصَدِّقِ باب: زکاۃ وصول کرنے والے کی رضا مندی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ ، يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا ، قَالَ : فَقَالَ : " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ ظَلَمُونَا ؟ قَالَ : " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ " . زَادَ عُثْمَانُ : وَإِنْ ظُلِمْتُمْ . قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ جَرِيرٌ : مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ .
´جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مصدقین کو راضی کرو “ ، انہوں نے پوچھا : اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا : ” تم اپنے مصدقین کو راضی کرو “ ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے ” اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں “ ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں : جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا ، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم اپنے مصدقین کو راضی کرو "، انہوں نے پوچھا: اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے فرمایا: " تم اپنے مصدقین کو راضی کرو "، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے " اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں۔" ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں: جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1589]
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ دیہات کے لوگ آئے، اور انہوں آپ سے عرض کیا: آپ کے بھیجے ہوئے کچھ محصل زکاۃ ہمارے پاس آتے ہیں جو ہم پر ظلم کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: " اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی و مطمئن کرو "، انہوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں۔ آپ نے فرمایا: " اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو "، انہوں نے پھر عرض کیا: اگرچہ وہ ظلم کریں؟ آپ نے فرمایا: " اپنے زکاۃ وصول کرنے والوں کو راضی کرو۔۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2462]
تو ہر حالت میں اطاعت وفرمانبرداری سے پیش آنا چاہیے تاکہ باہمی اعتماد اوراتفاق کی فضا برقرار رہے اور ایک دوسرے سے بدظنی اور بدگمانی کی بنا پر حالات میں کشیدگی اور بگاڑ پیدا نہ ہو لیکن یہ اطاعت صحیح اورجائز کاموں میں ہو گی۔
نافرمانی اور ناجائز کاموں میں نہیں ہوگی۔
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عامل زکاۃ لوگوں کو خوش رکھ کر ہی واپس جائے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1802]
فائدہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے خندہ پیشانی سے ملو، اس کے فرمائش کی ادائیگی میں اس سے تعاون کرو اور خوشی کے ساتھ زکاۃ ادا کرو۔
اگر تمہاری نظر میں وہ تم سے واجب سے زیادہ طلب کر رہا ہو تو بھی ادا کرو۔
اگر اس کی غلطی ہو گی تو اس کا بوجھ اس کے سر ہوگا، تمہیں ثواب ہی ملے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ وصول کرنے والے کو خوشی سے صدقہ جمع کروا دینا چاہیے تاکہ وہ راضی ہو کر جائے۔