سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب فِي زَكَاةِ السَّائِمَةِ باب: چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ ، قَالَ فِيهِ : وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْوَلَدُ .
´اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے` اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ «شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو ۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے ، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں ، روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا : جو صرف اللہ کی عبادت کرے ، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے ، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے ، اور زکاۃ میں بوڑھا ، خارشتی ، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے ، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے “ ۔