سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب الْكَنْزِ مَا هُوَ وَزَكَاةِ الْحُلِيِّ باب: کنز کیا ہے؟ اور زیور کی زکاۃ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدَيَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ؟ " فَقُلْتُ : صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ ؟ " قُلْتُ : لَا ، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : " هُوَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ " .
´عبداللہ بن شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، وہ کہنے لگیں : میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، آپ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا : ” عائشہ ! یہ کیا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ میں آپ کے لیے بناؤ سنگار کروں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتی ہو ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، آپ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا: ” عائشہ! یہ کیا ہے؟ “ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ میں آپ کے لیے بناؤ سنگار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ “ میں نے کہا: نہیں، یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1565]
➋ ولی امر اور داعی حضرات کو چاہیے کہ لوگوں کو ہمیشہ ان کا انجام یاد دلاتے رہا کریں۔ آخرت کی فکر ہی سے اعمال کی اصلاح اور ان میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔
➌ عورتوں کا یہ شرعی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ اپنی زیب وزینت اور ہار سنگھار صرف اور صرف اپنے شوہروں کی دلداری کے لیے کیا کریں۔