سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ باب: کن چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا صُرَدُ بْنُ أَبِي الْمَنَازِلِ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَبِيبًا الْمَالِكِيَّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : يَا أَبَا نُجَيْدٍ ، إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَنَا بِأَحَادِيثَ مَا نَجِدُ لَهَا أَصْلًا فِي الْقُرْآنِ ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ : أَوَجَدْتُمْ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ ، وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا شَاةً شَاةٌ ، وَمِنْ كُلِّ كَذَا وَكَذَا بَعِيرًا كَذَا وَكَذَا أَوَجَدْتُمْ هَذَا فِي الْقُرْآنِ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَعَنْ مَنْ أَخَذْتُمْ هَذَا ؟ أَخَذْتُمُوهُ عَنَّا وَأَخَذْنَاهُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ نَحْوَ هَذَا .
´حبیب مالکی کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے کہا : ابونجید ! آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی ، عمران رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے ، اور اس شخص سے یوں گویا ہوئے : کیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم ( زکاۃ ) ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے پوچھا : پھر تم نے یہ کہاں سے لیا ؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حبیب مالکی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے کہا: ابونجید! آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی، عمران رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے، اور اس شخص سے یوں گویا ہوئے: کیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم (زکاۃ) ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: پھر تم نے یہ کہاں سے لیا؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1561]