سنن ابي داود
كتاب الزكاة— کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل
باب مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ باب: کن چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا مَخْتُومًا بِالْحَجَّاجِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابراہیم کہتے ہیں` ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ، جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کن چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہے؟`
ابراہیم کہتے ہیں ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1560]
ابراہیم کہتے ہیں ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1560]
1560. اردو حاشیہ: ➊ وسق کی مقدار خیر القرون سے ساٹھ صاع ہی معروف اور معین ہے۔
➋ حجاجی:امیر حجاج بن یوسف کی طرف نسبت ہے کہ حکومت کی طرف سے اس پر مہر لگی ہوتی تھی۔
➋ حجاجی:امیر حجاج بن یوسف کی طرف نسبت ہے کہ حکومت کی طرف سے اس پر مہر لگی ہوتی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1560 سے ماخوذ ہے۔