حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَرَقِ ، وَالْحَرَقِ وَالْهَرَمِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من الهدم ، وأعوذ بك من التردي ، وأعوذ بك من الغرق ، والحرق والهرم ، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت ، وأعوذ بك أن أموت في سبيلك مدبرا ، وأعوذ بك أن أموت لديغا» ” اے اللہ ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ میں ڈوبنے ، جل جانے اور بہت بوڑھا ہو جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے ۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1552
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2473), أخرجه النسائي (5533 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الاستعاذة 60 (5533)، (تحفة الأشراف:11124)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/427) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5534 | سنن نسائي: 5535

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهدم، وأعوذ بك من التردي، وأعوذ بك من الغرق، والحرق والهرم، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت، وأعوذ بك أن أموت في سبيلك مدبرا، وأعوذ بك أن أموت لديغا» اے اللہ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں ڈوبنے، جل جانے اور بہت بوڑھا ہو جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1552]
1552. اردو حاشیہ: یہ دعا اور اس قسم کی دیگر دعائیں امت کی تعلیم کے لیے ہیں ورنہ رسول اکرم ﷺ جہاد سے پیٹھ پھیرنے اور شیطان سے محفوظ تھے، اسی طرح آپ سخت قسم کی بیماریوں سے بھی محفوظ تھے۔ [عون المعبود ]
شیخ البانی نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1552 سے ماخوذ ہے۔