سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي الاِسْتِعَاذَةِ باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1541
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ ، وَالْحَزَنِ ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ " وَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا : «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے ، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے “ اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» " اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے " اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1541]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» " اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے " اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1541]
1541. اردو حاشیہ: «الحزن» یہ لفظ ’حا‘‘ کے ضمہ اور ’’زا‘‘ کے سکون سے پڑھا جاتا ہے اور دونوں کی فتحہ سے بھی۔ «ھم» اور «حزن» میں فرق یہ ہے کہ «ھم» مستقبل کے اندیشوں کو کہا جاتا ہے اور «حزن» ان پر پریشانیوں کو جوماضی کے کسی واقعہ کی وجہ سے ہوں۔ «ظلع» اور «ضلع» تقریباً ہم معنی ہیں‘ صحیح بخاری میں «ضلع» ضاد کے ساتھ آیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1541 سے ماخوذ ہے۔