حدیث نمبر: 1537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے : «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم‏» ” اے اللہ ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1537
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة عنعن ولم يسمع من أ بي بردة, انظر جامع التحصيل (ص 255), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:9127)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الیوم واللیلة (601)، مسند احمد (4/414، 415) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 971

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دشمن کا ڈر ہو تو کیا دعا پڑھے؟`
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم‏» اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1537]
1537. اردو حاشیہ: دشمنوں اور بد طینت لوگوں کے شرور سے بچنے کےلئے مشروع مادی اسباب اختیار کرنا بھی توکل کا لازمی حصہ ہے۔ اور اللہ کی رحمت کا سائل رہنا مسلمان کا فریضہ اور اس کا شعار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1537 سے ماخوذ ہے۔