حدیث نمبر: 1532
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى خَدَمِكُمْ ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ ، لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَاعَةَ نَيْلٍ فِيهَا عَطَاءٌ فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا الْحَدِيثُ مُتَّصِلٌ ، عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ لَقِيَ جَابِرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے ، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کر لے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, رواه مسلم (3008) وانظر الحديثين السابقين (485، 634)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:2361) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اپنے مال اور اپنی اولاد کے لیے بددعا منع ہے۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کر لے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1532]
1532. اردو حاشیہ: بعض گھڑیاں اللہ کی جانب سے قبولیت کی ہوتی ہیں۔ ان کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اسی لئے بندے کو ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے۔ اور کسی بھی وقت زبان سے کوئی غلط بات نہیں نکالنی چاہیے۔ہوسکتا ہے پوری ہوجائے اور پھر پچھتاتا پھرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1532 سے ماخوذ ہے۔