سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي الاِسْتِغْفَارِ باب: توبہ و استغفار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1529
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ : رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کہے : «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ” میں اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا “ تو جنت اس کے لیے واجب گئی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´توبہ و استغفار کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ” میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا “ تو جنت اس کے لیے واجب گئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1529]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ” میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا “ تو جنت اس کے لیے واجب گئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1529]
1529. اردو حاشیہ: شرط یہ ہے کہ قول کے ساتھ ساتھ عمل اور کردار کی تایئد بھی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1529 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3133 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے درجات و مراتب۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابوسعید! جو شخص راضی ہو گیا اللہ کے رب ۱؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کر لیا ۲؎ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ۳؎ کا اقرار کر لیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی ۴؎، (راوی کہتے ہیں) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے۔ (چنانچہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے، تو آپ نے دہرا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3133]
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابوسعید! جو شخص راضی ہو گیا اللہ کے رب ۱؎ ہونے پر اور اسلام کو بطور دین قبول کر لیا ۲؎ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ۳؎ کا اقرار کر لیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی ۴؎، (راوی کہتے ہیں) یہ کلمات ابوسعید کو بہت بھلے لگے۔ (چنانچہ) عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کلمات کو آپ مجھے ذرا دوبارہ سنا دیجئیے، تو آپ نے دہرا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3133]
اردو حاشہ: ”بڑے عجیب لگے“ کیونکہ ظاہر ایک آسان چیز پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اگرچہ حقیقتاً یہ بہت مشکل کام ہے کیونکہ رضا کا علم اعمال سے ہوگا۔ اور عمل سے ایمان کا ثبوت مہیا کرنا ہی مشکل کا م ہے۔ دوسرے معنیٰ یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ”بڑے عمدہ لگے“ کیونکہ مومن کے لیے یہ عظیم خوشخبری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3133 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1884 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابو سعید، جو شخص اللہ کے رب ہونے، اسلام کے ضابطہ حیات ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نبی ہونے پر راضی ہو گیا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔‘‘ ابو سعید کو یہ بات بہت اچھی لگی، تو اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے دوبارہ سنائیے، آپﷺ نے ایسے کیا، پھر فرمایا: ’’ایک اور خصلت ہے، اس سے بندے کے جنت میں سو درجے بلند کیے جاتے ہیں، دو درجوں کے درمیان... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4879]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، جنت میں تو انسان جہاد کے بغیر بھی چلا جائے گا، لیکن وہ مراتب و درجات جو انتہائی بلند و بالا اور اشرف ہیں، ان سے محروم ہو جائے گا اور ان نعمتوں سے محروم رہے گا، جن کا تصور بھی انسان اس دنیا میں نہیں کر سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1884 سے ماخوذ ہے۔