حدیث نمبر: 1525
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ ابْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ ، أَوْ فِي الْكَرْبِ : اللَّهُ ، اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا هِلَالٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو «الله الله ربي لا أشرك به شيئًا» یعنی ” اللہ ہی میرا رب ہے ، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہلال ، عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں ، اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1525
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (3882 وسنده حسن) وللحديث شواھد عند ابن حبان (2369) وغيره
تخریج حدیث « سنن النسائی/ الیوم واللیلة (647، 649، 650)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 17 (3882)، (تحفة الأشراف:15757)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 369) (صحیح) (الصحيحة 2755 وتراجع الألباني 119) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3882

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´توبہ و استغفار کا بیان۔`
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو «الله الله ربي لا أشرك به شيئًا» یعنی اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: ہلال، عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں، اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1525]
1525. اردو حاشیہ: اس دعا میں راز یہ ہے کہ بندہ جس قدر اپنے خالق ومالک سے ربط وتعلق میں مضبوط ہوگا۔ اسی قدر دنیاوی پریشانیوں سے محفوظ رہے گا۔ اس سے کٹ کرنا ممکن ہے۔ کہ کوئی راحت و سکون پاسکے۔ اور جو عصیان کے باوجود اپنے آپ کو راحت میں سمجھتے ہیں۔ فریب خوردہ ہیں۔ در حقیقت اللہ نے انھیں مہلت دی ہوئی ہے۔ اور آخرت میں ان کےلئے کچھ نہیں ہے۔ ونسأل اللہ العافیة
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1525 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3882 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مصیبت کے وقت دعا کرنے کا بیان۔`
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے کہ میں سخت تکلیف کے وقت پڑھا کروں، (وہ کلمات یہ ہیں) «الله الله ربي لا أشرك به شيئا» اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3882]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
پریشانی کے موقع پر الفاظ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کی رحمت سے اُمید رکھتا ہوں۔
کہ وہی میری پریشانی دور کرے گا۔
شرک عام طور پر پریشانی کے موقع پر ہی کیا جاتا ہے۔
کہ اللہ کے بندوں سے مشکلات کے حل اور پریشانی دور کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔
اور تصور کیا جاتا ہے کہ فوت شدہ بزرگ نذرانے لے کر ہماری حاجتیں پوری کردیں گے۔
لیکن ایک توحید پرست کی توحید کی شان بھی ایسے موقع پر ہی ظاہر ہوتی ہے۔
جب وہ سب کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کے آگےاپنی مصیبت اور تکلیف کا اظہار کرتا ہے۔
اور اسی سے فریاد رسی کی امید رکھتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3882 سے ماخوذ ہے۔