سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي الاِسْتِغْفَارِ باب: توبہ و استغفار کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ . ح حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الْمَعْنَى ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا : أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ ؟ قَالَ : " كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . وَزَادَ زِيَادٌ : وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهَا .
´عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ` قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے : «اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ( البقرہ : ۲۰۱ ) ۔ زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کر لیتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جسے بکثرت پڑھنا دین اور دنیا میں بہت سی برکتوں کا ذریعہ ہے۔
قرآن مجید میں اس سے پہلے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو حج میں خالی دنیاوی مفاد کی دعائیں کرتے اور آخرت کو بالکل بھول جاتے تھے۔
مسلمانوں کو یہ دعا سکھائی گئی کہ وہ دنیا کے ساتھ آخرت کی بھی بھلائی مانگیں۔
اس آیت کا شان نزول یہی ہے۔
عرفات میں بھی زیادہ تر اس دعا کی فضیلت ہے۔
1۔
قرآن مجید میں اس دعائے ربانی سے پہلے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو حج کرتے وقت اپنے دنیاوی مفاد کی دعائیں کرتے اورآخرت کو بالکل نظرانداز کردیتے تھے اور ارشاد باری تعالیٰ: ’’ان میں سے بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار!ہمیں دنیا میں ہی سب کچھ دے دے۔
ایسےشخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
‘‘ (البقرة: 200/2)
مسلمانوں کو یہ دعا سکھائی گئی کہ وہ دوران حج میں دنیا کے ساتھ آخرت کی بھی بھلائی مانگیں، اس کے لیے مذکورہ دعا بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کی تمام نعمتوں پر مشتمل ہے اسے بکثرت پڑھتے رہنا دین ودنیا کی نعمتوں کا باعث ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر اوقات یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6389)
2۔
اس دعا سے یہ تعلیم بھی ملتی ہے کہ بندے کو اپنے رب سے دنیا وآخرت کی بھلائی کا سوال تو کرنا چاہیے لیکن اس بھلائی کا فیصلہ اور انتخاب اللہ تعالیٰ پر چھوڑنا چاہیے کیونکہ وہی جانتاہے کہ ہمارے لیے حقیقی خیر کس چیز میں ہے؟ لہذا بندے کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنی طرف سے کوئی تجویز پیش کرنے کے بجائے معاملہ اللہ تعالیٰ ہی پرچھوڑدے، چنانچہ اس انداز سے دعا کرنے والوں کے متعلق ارشادباری تعالیٰ ہے: "ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ)
حصہ پائیں گے۔
" اور یہ حصہ اس اُصول کے مطابق ہوگا جو اس نے اپنے بندوں کی نیکیوں کا بدلہ دینے کے لیے مقرر کر رکھا ہے جس کی وضاحت اس نے خود قرآن میں کی ہے۔
واللہ اعلم۔
بلکہ دنیا کو آخرت پر مقدم کیا گیا ہے۔
اس لئے کہ دنیا کے سدھار ہی سے آخرت کا سدھار ہوگا۔
(1)
یہ دعا بہت جامع کلمات پر مشتمل ہے۔
اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کی گئی ہے۔
(2)
حسنہ سے مراد اگر نعمت ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا کے ذریعے سے دنیا و آخرت کی نعمتوں اور عذاب آخرت سے حفاظت طلب کی ہے۔
(3)
اس میں دنیا کو آخرت پر مقدم اس لیے کیا ہے کہ امر واقعی یہی ہے کہ دنیا پہلے ہے اور آخرت بعد میں آنے والی ہے، پھر اگر کسی کی دنیا اچھی ہے، اس میں وہ کسی کا محتاج نہیں تو آخرت میں بھی کامیابی کی امید کی جا سکتی ہے۔
واللہ أعلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا مانگا کرتے تھے «ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ’’ اے ہمارے آقا و مولا! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی سے سر خرو فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ “ (بخاری ومسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1353»
«أخرجه البخاري، الدعوات، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم: "ربنا! آتنا في الدنيا حسنةً"، حديث:6389، ومسلم، الذكر والدعاء، باب فضل الدعاء باللّٰهم! آتنا في الدنيا حسنةً...، حديث:2690.»
تشریح: 1. اس حدیث میں جس دعا کا ذکر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بکثرت پڑھتے تھے۔
یہ دعا سب دعاؤں سے جامع ہے۔
قاضی عیاض نے کہا ہے کہ دنیا و آخرت کے جملہ مطالب اس میں آگئے ہیں۔
2.لفظ حسنۃ میں دنیا کے اعتبار سے نیک عمل‘ نیک اولاد‘ وسعت رزق ‘ علم نافع اور صحت و عافیت وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔
صرف ایک لفظ حسنۃ کہہ کر دنیا کی تمام بھلائیاں طلب کر لیں اور آخرت کے لیے یہی لفظ بول کر جنت طلب کر لی اور آخرت کی گھبراہٹ سے امن و سلامتی اور حساب و کتاب کی آسانی بھی طلب کر لی‘ نیز آگ کے عذاب‘ یعنی جہنم کے عذاب سے پناہ کی درخواست بھی کر دی۔
گویا اس مختصر مگر جامع دعا میں دنیا و آخرت کی ساری نعمتیں مانگ لیں اور دوزخ کے عذاب سے پناہ و نجات طلب کر لی۔