حدیث نمبر: 1514
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيق ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ ، وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: صغیرہ گناہوں پر اصرار سے وہ کبیرہ ہو جاتے ہیں، اور کبیرہ پر اصرار کرنے سے آدمی کفر تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر ہر گناہ کے بعد صدق دل سے توبہ و استغفار کر لے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کی پختہ نیت کرے، مگر بدقسمتی سے پھر اس میں مبتلا ہوجائے تو یہ اصرار نہ ہو گا، اس طرح اس حدیث سے استغفار کی فضیلت ثابت ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1514
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2340), وللحديث شاھد حسن لذاته عند الطبراني في الدعاء (1797) فيه أبو شيبة سعيد بن عبد الرحمن الأسدي حسن الحديث
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 107 (3559)، (تحفة الأشراف:6628) (ضعیف) » (اس کے ایک راوی مولی لا ٔبی بکر مبہم مجہول آدمی ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3559

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´توبہ و استغفار کا بیان۔`
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے " ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1514]
1514. اردو حاشیہ: ➊ استغفار کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا۔ کہ وہ ان کو اپنی رحمت سے ڈھانپ دے۔ اور بندے کو رُسوا نہ کرے۔
➋ اپنے گناہوں پراڑنا اور اصرار کرنا۔ ظالموں اور گناہ گاروں کی عادت ہے۔ [يَسْمَعُ آيَاتِ اللَّـهِ تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ]
[الجاثیة۔8]
اللہ کی آیات کو سنتا ہے۔ جو کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر اڑا رہتا ہے۔ (اپنے گناہوں پر) تکبرکرتے ہوئے۔ گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ تو ایسے کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دیجیئے۔ جب کہ متقی انسان کی صفت اس کے برخلاف ہوتی ہے۔ [وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ]
[آل عمران۔135]
متقی اپنے کیے پراصرار نہیں کرتے۔ اور وہ جانتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1514 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3559 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص گناہ کر کے توبہ کر لے اور اپنے گناہ پر نادم ہو تو وہ چاہے دن بھر میں ستر بار بھی گناہ کر ڈالے وہ گناہ پر مُصر اور بضد نہیں مانا جائے گا۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3559]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3559 سے ماخوذ ہے۔