حدیث نمبر: 1508
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : وَقَالَ سُلَيْمَانُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنَا شَهِيدٌ ، أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ ، وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ ، اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا- ( سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے ) : «اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك ، اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدك ورسولك ، اللهم ربنا ورب كل شىء ، أن العباد كلهم إخوة ، اللهم ربنا ورب كل شىء ، اجعلني مخلصا لك وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإكرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض ، الله أكبر الأكبر ، حسبي الله ونعم الوكيل الله أكبر الأكبر» ” اے اللہ ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب ، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور اے ہر چیز کے رب ! میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور ہر چیز کے رب ! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں ، اے اللہ ! ہمارے رب ! اور ہر چیز کے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں ، اے جلال ، بزرگی اور عزت والے ! سن لے اور قبول فرما لے ، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ، اے اللہ ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے ( سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے ) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے ، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1508
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, داود بن راشد الطفاوي ضعفه الجمهور وقال ابن حجر : لين الحديث (تق: 1783), وشيخه أبو مسلم البجلي مجهول لم يوثقه غير ابن حبان،انظر التحرير (8365), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:3692)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/369)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (101) (ضعیف) (اس کے راوی’’ داود طفاوی ‘‘ لین الحدیث ہیں) »