حدیث نمبر: 1506
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ ، يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ أَهْلُ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالزبیر کہتے ہیں کہ` میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن ، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اسی کے لیے حمد ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں ، وہ احسان ، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے ۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں ، اگرچہ کافر برا سمجھیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1506
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (594)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 26 (594)، سنن النسائی/السہو 83 (1340)، (تحفة الأشراف:5285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/4)، (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1340 | سنن نسائي: 1341 | صحيح مسلم: 594

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1340 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سلام پھیرنے کے بعد تہلیل «لا إلٰہ إلا اللہ» کہنے کا بیان۔`
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» " نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1340]
1340۔ اردو حاشیہ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» جامع کلمہ ہے۔ حول سے مراد ہر نقصان اور خرابی سے بچنے کی طاقت اور قوۃ سے مراد ہر اچھی چیز حاصل کرنے کی قوت ہے۔ ظاہر ہے ہر چیز ان میں آ جاتی ہے۔ شاید اسی لیے اس کلمے کو جنت کا خزانہ کہا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1340 سے ماخوذ ہے۔