سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب التَّسْبِيحِ بِالْحَصَى باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1502
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَثَّامٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ " ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ : " بِيَمِينِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا ( ابن قدامہ کی روایت میں ہے ) : ” اپنے دائیں ہاتھ پر “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے): ” اپنے دائیں ہاتھ پر۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1502]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے): ” اپنے دائیں ہاتھ پر۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1502]
1502. اردو حاشیہ: تسبیحات صرف دایئں ہاتھ ہی پر شمار کرنا سنت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1502 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1356 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´تسبیح گننے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1356]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1356]
1356۔ اردو حاشیہ: مذکورہ احادیث میں معین مقدار میں ذکر کرنے کا حکم ہے، لہٰذا تسبیحات اور دیگر اذکار کو شمار کرنا مشروع عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا طریقہ بھی منقول ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں ہاتھ کے ساتھ تسبیحات شمار کرتے دیکھا۔ [سنن أبي داود، الوتر، حدیث: 1502] البتہ جس شخص کے لیے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر تسبیحات شمار کرنا واقعی مشکل اور دشوار ہو تو اس کے لیے اس مقصد کی خاطر بایاں ہاتھ یا کوئی دوسرا ذریعہ استعمال کرنا ان شاء اللہ جائز ہو گا۔ «لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا» [البقرة: 286: 2] واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1356 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 594 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
594- سیدنا عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دوعادات ایسی ہیں جو آسان ہیں، لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں،“ جو بھی مسلمان ان کو باقاعدگی سے سرانجام دے گا وہ جنت میں داخل ہوجاۓ گا۔“ لوگوں نے عرض کی:یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم)!وہ دنوں کون سی ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد 10 مرتبہ «سبحان الله» پڑھنا،10 مرتبہ «الله اكبر» پڑھنا، 10 مرتبہ «الحمدلله» پڑھنا۔ اور سوتے وقت 33 مرتبہ «سبحان الله» پڑھنا۔33 مرتبہ« الحمدلله» پڑھنا اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھنا۔“ پھر سفیان نے یہ بات بیان کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:594]
فائدہ:
اس حدیث میں مختلف مواقع پر سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر کہنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے ہمیں ان کا ان کے مقررہ اوقات پر پڑھنے کا التزام کرنا چاہیے، اس حدیث میں نماز کے بعد دس کی گنتی ہے جبکہ دوسری احادیث میں سبحان اللہ (33 بار)، الحمد للہ (33 بار) اور اللہ اکبر (34 بار) کا ذکر ہے، دونوں احادیث ہی صحیح ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ ترازو حق ہے۔
اس حدیث میں مختلف مواقع پر سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر کہنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے ہمیں ان کا ان کے مقررہ اوقات پر پڑھنے کا التزام کرنا چاہیے، اس حدیث میں نماز کے بعد دس کی گنتی ہے جبکہ دوسری احادیث میں سبحان اللہ (33 بار)، الحمد للہ (33 بار) اور اللہ اکبر (34 بار) کا ذکر ہے، دونوں احادیث ہی صحیح ہیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ ترازو حق ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 594 سے ماخوذ ہے۔