حدیث نمبر: 1501
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ ، عَنْ يُسَيْرَةَ ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ ، وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر ، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے ( قیامت کے روز ) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملون» (سورۃ النور 24) ’’ جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے ‘‘، تو جس طرح ہاتھ اور پاؤں وغیرہ اعضاء برے اعمال کی گواہی دیں گے اسی طرح اچھے اعمال کی بھی گواہی دیں گے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1501
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2316), أخرجه الترمذي (3583 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 121 (3583)، (تحفة الأشراف:18301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/370، 371) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔`
یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے (قیامت کے روز) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1501]
1501. اردو حاشیہ: روز قیامت جسم کے اعضاء بلوائے جایئں گے۔ اور شہادت دیں گے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ [الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ) [المائدة۔3]
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے۔ اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے۔ اور ان کے پائوں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔ اور سورۃ نور میں ہے۔ [يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ]
[النور۔24]
اس دن ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پائوں ان کے خلاف گواہی دیں گے جو یہ عمل کرتے رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1501 سے ماخوذ ہے۔