سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب الدُّعَاءِ باب: دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ ، فَأَذِنَ لِي ، وَقَالَ : " لَا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ " ، فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا ، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ ، وَقَالَ : " أَشْرِكْنَا يَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ " .
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی ، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا : ” میرے بھائی ! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا “ ، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ ( راوی حدیث ) شعبہ کہتے ہیں : پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا ۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے ” اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: ” میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا “، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے ” اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1498]
➋ اجتماعی زندگی میں کسی بڑے اہم کام کے اقدام کےلئے بزرگوں سے اجازت لینا۔
➌ اہل فضل سے دعائے خیر کی درخواست کرنا بالخصوص جب وہ کسی فضیلت والے عمل میں ہوں۔
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ نے (اجازت دیتے ہوئے) کہا: ” اے میرے بھائی! اپنی دعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا، بھولنا نہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3562]
نوٹ:
(سند میں ’’عاصم بن عبید اللہ‘‘ ضعیف ہیں)