سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب الدُّعَاءِ باب: دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1497
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا ، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : لَا تُسَبِّخِي : أَيْ لَا تُخَفِّفِي عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : ” تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دعا کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1497]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ” تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1497]
1497. اردو حاشیہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ اس لئے اس سے وہ مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔ جو اس میں بیان کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1497 سے ماخوذ ہے۔