حدیث نمبر: 1496
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 ، وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ الم { 1 } اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ { 2 } سورة آل عمران آية 1-2 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا اسم اعظم ( عظیم نام ) ان دونوں آیتوں «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ۱؎ اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیت «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ۲؎ میں ہے “ ۔

وضاحت:
وضاحت: سورة البقرة: (۱۶۳) وضاحت: سورة آل عمران: (۱،۲)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1496
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2291), أخرجه الترمذي (3478 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الدعوات 65 (3478)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3855)، (تحفة الأشراف:15767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461) (حسن لغیرہ) » (اس کے راوی عبیداللہ القدَّاح ضعیف ہیں ، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے ، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابو امامة کی حدیث ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی ) (ملاحظہ ہو: سلسلة ا لاحادیث الصحیحة: 746و صحیح ابی داود: 5؍ 234)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3478 | سنن ابن ماجه: 3855

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3478 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے (ایک آیت) «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» " تم سب کا معبود ایک ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمن، رحیم ہے " (البقرہ: ۱۶۳)، اور (دوسری آیت) آل عمران کی شروع کی آیت «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ہے " «الم» ، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو «حی» زندہ اور «قیوم» سب کا نگہبان ہے " (آل عمران: ۱-۲)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3478]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تم سب کا معبود ایک ہی معبود بر حق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ َرحْمٰن، َرحِیْم ہے۔
(البقرہ: 163) (یعنی اَلرَّحْمنٰ اَلرَّحِیْم)
2؎:
الم، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی (زندہ) اور قیوم (سب کا نگہبان) ہے۔
(آل عمران: 1-2) (یعنی: اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم)

نوٹ:
(سند میں ’’عبید اللہ بن ابی زیاد القداح‘‘ اور ’’شہر بن حوشب‘‘ ضعیف ہیں، مگر ابوامامہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم 746)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3478 سے ماخوذ ہے۔