حدیث نمبر: 1495
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَفْصٍ يَعْنِي ابْنَ أَخِي أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يُصَلِّي ، ثُمَّ دَعَا : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا ، ( نماز سے فارغ ہو کر ) اس نے دعا مانگی : «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم» ” اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ : ساری و حمد تیرے لیے ہے ، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں ، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے ، اے جلال اور عطاء و بخشش والے ، اے زندہ جاوید ، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے ! “ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم ( عظیم نام ) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1495
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (2290), أخرجه النسائي (1301 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/السہو 58 (1299)، (تحفة الأشراف:551)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 100 (3544)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3858)، مسند احمد (3/120، 158، 245) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1301 | سنن ترمذي: 3544 | سنن ابن ماجه: 3858 | معجم صغير للطبراني: 978

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3544 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی دعا میں کہہ رہا تھا: «اللهم لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز سے دعا کی ہے؟ اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب بھی اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3544]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3544 سے ماخوذ ہے۔