سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب الدُّعَاءِ باب: دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيِّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ فِيهِ : " لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : «لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم» ” تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم ( عظیم نام ) کا حوالہ دے کر سوال کیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دعا کا بیان۔`
اس سند سے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: «لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم» ” تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم (عظیم نام) کا حوالہ دے کر سوال کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1494]
اس سند سے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: «لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم» ” تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم (عظیم نام) کا حوالہ دے کر سوال کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1494]
1494. اردو حاشیہ: معلوم ہوا کہ اسمائے حسنیٰ میں اسم اعظم بھی ہے۔اور وہ سورہ اخلاص میں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1494 سے ماخوذ ہے۔