سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب الدُّعَاءِ باب: دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1492
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دعا کا بیان۔`
یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1492]
یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1492]
1492. اردو حاشیہ: اس مسئلے کی توضیح کے لئے دیکھئے حدیث 1485 کے فوائد۔ نیز خیال رہے کہ ہر موقع کی دُعا میں ہاتھ اُٹھانا بھی ثابت نہیں ہے۔ بےشمارمواقع ہیں کہ وہاں دعا مشروع ہے۔ مگرہاتھ اُٹھانے ثابت ہی نہیں ہیں۔ مثلا کھانے کے بعد یا نیند کے موقع پر وغیرہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1492 سے ماخوذ ہے۔