حدیث نمبر: 1480
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ ابْنٍ لِسَعْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَبَهْجَتَهَا ، وَكَذَا ، وَكَذَا ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلَاسِلِهَا وَأَغْلَالِهَا ، وَكَذَا ، وَكَذَا ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ " فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ، إِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَ الْجَنَّةَ أُعْطِيتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ ، وَإِنْ أُعِذْتَ مِنَ النَّارِ أُعِذْتَ مِنْهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الشَّرِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ` انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے کہتے سنا : اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں ، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے ، اس کی زنجیروں سے ، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے ، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1480
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو نعامة قيس بن عباية سمعه من مولي وھو مجهول عن ابن لسعد ولم أعرفه (!), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:3948)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/172، 183) (حسن صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دعا کا بیان۔`
سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے کہتے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: " عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1480]
1480. اردو حاشیہ: یہ روایت شیخ البانیؒ کے نزدیک صحیح ہے۔ ہمارے فاضل محقق کے نزدیک بھی اس کا پہلا حصہ (سيكونُ قومٌ يعتدون في الدعا]
صحیح ہے۔ كيونكہ اتنا حصہ دوسرے طریق سے ثابت ہے۔دیکھئے حدیث 96)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1480 سے ماخوذ ہے۔