سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب التَّشْدِيدِ فِيمَنْ حَفِظَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ باب: قرآن یاد کر کے بھول جانے والے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 1474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنَ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ۱؎ ہو کر ملے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: کوڑھ کے سبب جس کے ہاتھ کٹ کر گر گئے ہوں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قرآن یاد کر کے بھول جانے والے پر وارد وعید کا بیان۔`
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ۱؎ ہو کر ملے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1474]
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ۱؎ ہو کر ملے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1474]
1474. اردو حاشیہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ یزید بن ابی زیاد ناقابل حجت ہے۔ بہرحال یہ بہت بڑا عیب ہے کہ انسان قرآن پڑھ کر یا حفظ کرکے یا ترجمہ پڑھ کر بھلادے۔ ظاہر ہے کہ یہ اسی وقت ہوتا ہے۔ جب انسان غفلت شعار نہ ہو ورنہ اگر حافظہ ہی ساتھ چھوڑ جائے تو وہ اور بات ہے۔ وہ ان شاء اللہ معاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1474 سے ماخوذ ہے۔