حدیث نمبر: 147
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضْ الْعِمَامَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا ، آپ کے سر مبارک پر قطری ( یعنی قطر بستی کا بنا ہوا ) عمامہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ ( پگڑی ) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ ( پگڑی ) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 147
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (564), أبو معقل لا يعرف (ميزان الإعتدال: 576/4) مجهول (تقريب التهذيب:8381), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الطھارة 89 (564)، (تحفة الأشراف: 1725) (ضعیف) » (اس کے راوی ”ابومعقل“ مجہول ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 564

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عدم ذکر نفی اصل کی بنیاد نہیں`
«. . . عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضْ الْعِمَامَةَ . . .»
. . . انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا، آپ کے سر مبارک پر قطری (یعنی قطر بستی کا بنا ہوا) عمامہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ عمامہ (پگڑی) کے نیچے داخل کیا اور عمامہ (پگڑی) کھولے بغیر اپنے سر کے اگلے حصہ کا مسح کیا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 147]
فوائد و مسائل:
یہ روایت سنداًً ضعیف ہے۔ علاوہ ازیں اس میں پگڑی پر مسح کرنے کی صراحت بھی نہیں ہے مگر حضرت مغیرہ بن شبہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایات میں صراحت ہے کہ آپ نے باقی مسح پگڑی پر پورا کیا۔ یہاں عدم ذکر نفی اصل کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ پگڑی پر مسح صحیح سنت سے ثابت ہے۔ جیسے کہ حدیث نمبر [146] میں اس کی اجازت گزری ہے اور آگے حدیث نمبر [150] میں بھی اس کی صراحت آ رہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 147 سے ماخوذ ہے۔