سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الوتر— کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي ثَوَابِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ باب: قرآن پڑھنے کے ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ ، فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ ، أَوْ الْعَقِيقِ فَيَأْخُذَ نَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ بِغَيْرِ إِثْمٍ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ ؟ " قَالُوا : كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَلَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ ، وَإِنْ ثَلَاثٌ فَثَلَاثٌ مِثْلُ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ " .
´عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟ “، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے “۔
تشریح، فوائد و مسائل
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ (چبوترے) پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟ “، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1456]
➋ محبت دنیا۔ جب کہ وہ دین کے تابع ہوتو جائز ہے۔
➌ قطع ر حمی ناجائز اور حرام ہے۔
➍ یہ حدیث تعلیم قرآن کی افضلیت پر دلالت کرتی ہے۔
وادی بطحان اور وادی عقیق: مدینہ منورہ کے قریبی مقامات ہیں اور صفہ آپﷺ کے دور میں مسجد نبویﷺ کا ایک چبوترہ تھا، جس پر سائبان تھا اور باہر سے آنے والے طلبہ اور ضرورت مند افراد اس میں ٹھہرتے تھے، جن کی تعداد کم و بیش ہوتی رہتی تھی۔
كَوْمَاوَيْن، كوماء کا تثنیہ ہے، بہت بڑی کوہان والی اونٹنی۔