حدیث نمبر: 1441
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ . ح حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالُوا : كُلُّهُمْ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ " . زَادَ ابْنُ مُعَاذٍ : " وَصَلَاةِ الْمَغْرِبِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں قنوت پڑھتے تھے ۔ ابن معاذ نے «صلاة المغرب» ( نماز مغرب میں بھی ) کا بھی اضافہ کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (678)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/المساجد 54 (678)، سنن الترمذی/الصلاة 178 (401)، سنن النسائی/التطبیق 29 (1075)، (تحفة الأشراف: 1782)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/280، 285، 299، 300)، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1638) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 678 | سنن ترمذي: 401 | سنن نسائي: 1077

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 401 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نماز فجر میں قنوت پڑھنے کا بیان۔`
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 401]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث سے شوافع نے فجر میں قنوت پڑھنا ثابت کیا ہے اور برابر پڑھتے ہیں، لیکن اس میں تو مغرب کا تذکرہ بھی ہے، اس میں کیوں نہیں پڑھتے؟ در اصل یہاں قنوت سے مراد قنوت نازلہ ہے جو بوقت مصیبت پڑھی جاتی ہے (اس سے مراد وتر والی قنوت نہیں ہے) رسول اکرم ﷺ بوقت مصیبت خاص طور پر فجرمیں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے، بلکہ بقیہ نمازوں میں بھی پڑھتے تھے، اور جب ضرورت ختم ہو جاتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 401 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1077 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز مغرب میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں «أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1077]
1077۔ اردو حاشیہ: صحیح بات یہ ہے کہ یہ قنوت نازلہ تھی جو آپ نے مختلف نمازوں میں ضرورت کے وقت کی ہے مگر بعض حضرات نے اسے قنوت نازلہ کی بجائے صبح اور مغرب کی قنوت لازمہ قرار دیا ہے، یعنی ان دو نمازوں میں آپ ہمیشہ قنوت فرماتے تھے۔ مگر مغرب کی قنوت کے ترک پر تو اتفاق و اجماع امت ہے۔ کوئی محدث یا فقیہ بھی قنوت نازلہ کے علاوہ مغرب کی قنوت کا قائل نہیں، البتہ امام شافعی اور بعض محدثین (ہمیشہ) فجر کی قنوت کے قائل ہیں۔ اس روایت کو دیکھیں تو دونوں نمازیں برابر ہیں۔ اگر مغرب میں منسوخ ہے تو فجر میں کیوں منسوخ نہیں؟ اور یہی صحیح بات ہے کہ قنوت نازلہ تو باقی ہے مگر قتنوت فرض (فجر اور مغرب کی قنوت) باقی نہیں ہے۔ جس روایت سے صبح کی نماز میں قنوت ثابت ہوتی ہے، اسے قنوت نازلہ پر محمول کیا جائے گا، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخر زندگی تک صبح کی نماز میں بوقت ضرورت قنوت نازلہ کرتے تھے۔ اس طرح سب احادیث میں تطبیق ہو جائے گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1077 سے ماخوذ ہے۔