سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الاِسْتِنْثَارِ باب: ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، قَالَ : فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ ، وَقَالَ عَصِيدَةٌ : مَكَانَ خَزِيرَةٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ` وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے ، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» ( ایک قسم کا کھانا ) کا ذکر ہے ۔