حدیث نمبر: 1417
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ ، زَادَ : فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : مَا تَقُولُ ؟ فَقَالَ : لَيْسَ لَكَ ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے` اس میں اتنا مزید ہے : ایک اعرابی نے کہا : آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا : یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الوتر / حدیث: 1417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (1170), أبو عبيدة عن أبيه منقطع كما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 57
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 114 (1170)، (تحفة الأشراف:9627) (صحیح) » (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے )