حدیث نمبر: 1410
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ ، فَنَزَلَ ، فَسَجَدَ وَسَجَدُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ” ص “ پڑھی ، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے ، سجدہ کیا ، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا ، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی ، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی ، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو “ ، چنانچہ آپ اترے ، سجدہ کیا ، لوگوں نے بھی سجدہ کیا ۔

وضاحت:
وضاحت: اس سے مراد داود علیہ السلام ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب سجود القرآن / حدیث: 1410
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, صححه ابن خزيمة (1455، 1795) وللحديث شواهد عند البيھقي (2/319) وغيره
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داو د، (تحفة الأشراف:4276)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 161 (1507) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سورۃ ص میں سجدے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ص پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو ، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1410]
1410. اردو حاشیہ: خطیب دوران خطبہ میں اگر سجدہ کی آیت تلاوت کرے۔ تو منبر سے اُتر کر سجدہ کر سکتا ہے۔ اور سامعین بھی اس کی اقتداء کریں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1410 سے ماخوذ ہے۔