سنن ابي داود
كتاب سجود القرآن— کتاب: سجدہ تلاوت کے احکام و مسائل
باب السُّجُودِ فِي { ص } باب: سورۃ ”ص“ میں سجدے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ص ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمٌ آخَرُ قَرَأَهَا فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ تَشَزَّنَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُكُمْ تَشَزَّنْتُمْ لِلسُّجُودِ ، فَنَزَلَ ، فَسَجَدَ وَسَجَدُوا " .
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ” ص “ پڑھی ، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے ، سجدہ کیا ، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا ، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی ، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی ، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو “ ، چنانچہ آپ اترے ، سجدہ کیا ، لوگوں نے بھی سجدہ کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ” ص “ پڑھی، آپ منبر پر تھے جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، پھر ایک دن کی بات ہے کہ آپ نے اس سورۃ کی تلاوت کی، جب سجدہ کے مقام پر پہنچے تو لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ سجدہ دراصل ایک نبی ۱؎ کی توبہ تھی، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو رہے ہو “، چنانچہ آپ اترے، سجدہ کیا، لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1410]