حدیث نمبر: 1405
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : كَانَ زَيْدٌ الْإِمَامَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب سجود القرآن / حدیث: 1405
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الدارقطني (1/409، 410 ح 1512 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (566 وسنده حسن) والحديث السابق (1404) شاھد له
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:3707) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
اس سند سے بھی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1405]
1405. اردو حاشیہ: امام ابودائود ؒ کے قول کا مفہوم یہ ہے۔ کہ چونکہ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ قراءت کر رہے تھے۔ اور معنیً امام تھے۔ جب امام نے سجدہ چھوڑ دیا تو نبی کریمﷺ نے بھی بحیثیت سامع چھوڑ دیا۔ واللہ اعلم۔ (عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1405 سے ماخوذ ہے۔