حدیث نمبر: 1403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنْ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` مکہ سے مدینہ آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل ( سورتوں ) میں سے کسی سورۃ میں سجدہ نہیں کیا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے، لیکن یہ ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث (۱۴۰۷) جو آگے آ رہی ہے کے معارض ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے ساتویں ہجری میں اسلام قبول کیا ہے، نیز ان کی حدیث صحیحین میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب سجود القرآن / حدیث: 1403
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو قدامة الحارث بن عبيد : ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:6216) (ضعیف) » (اس کے راوی ابوقدامہ حارث بن عبید اور مطر وراق حافظہ کے بہت کمزور راوی ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آ جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مفصل (سورتوں) میں سے کسی سورۃ میں سجدہ نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1403]
1403. اردو حاشیہ: یہ روایت ضعیف ہے۔ تاہم صحیح حدیث آگے آرہی ہے۔ (حديث نمبر 1407)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1403 سے ماخوذ ہے۔