سنن ابي داود
أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله— ابواب: قرات قرآن اس کے جز مقرر کرنے اور ترتیل سے پڑھنے کے مسائل
باب تَحْزِيبِ الْقُرْآنِ باب: قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ الرَّاءِ ، فَقَالَ : كَبِرَتْ سِنِّي ، وَاشْتَدَّ قَلْبِي ، وَغَلُظَ لِسَانِي ، قَالَ : " فَاقْرَأْ ثَلَاثًا مِنْ ذَوَاتِ حم " ، فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ ، فَقَالَ : " اقْرَأْ ثَلَاثًا مِنَ الْمُسَبِّحَاتِ " فَقَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً ، فَأَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا ، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ ، مَرَّتَيْنِ " .
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے قرآن مجید پڑھائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں «الر» ہے ۱؎ “ ، اس نے کہا : میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں ، میرا دل سخت اور زبان موٹی ہو گئی ہے ( اس لیے اس قدر نہیں پڑھ سکتا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر «حم» والی تینوں سورتیں پڑھا کرو “ ، اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو «مسبحات» میں سے تین سورتیں پڑھا کرو “ ، اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے ایک جامع سورۃ سکھا دیجئیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو «إذا زلزلت الأرض» سکھائی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ، میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا ، جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا : «أفلح الرويجل» ( بوڑھا کامیاب ہو گیا ) ۔