سنن ابي داود
أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله— ابواب: قرات قرآن اس کے جز مقرر کرنے اور ترتیل سے پڑھنے کے مسائل
باب فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ باب: قرآن کتنے دنوں میں ختم کیا جائے؟
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لَهُ : " اقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ " قَالَ : إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ : " اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ " ، قَالَ : إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ : " اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ " قَالَ : إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ : " اقْرَأْ فِي عَشْرٍ " قَالَ : إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ : " اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ .
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو “ ، انہوں نے عرض کیا : مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو بیس دن میں پڑھا کرو “ ، عرض کیا : مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پندرہ دن میں پڑھا کرو “ ، عرض کیا : مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو دس دن میں پڑھا کرو “ ، عرض کیا : مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات دن میں پڑھا کرو ، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مسلم ( مسلم بن ابراہیم ) کی روایت زیادہ کامل ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: " قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو "، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تو بیس دن میں پڑھا کرو "، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تو پندرہ دن میں پڑھا کرو "، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تو دس دن میں پڑھا کرو "، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا۔" ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم (مسلم بن ابراہیم) کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1388]
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا تقاضا ہے کہ سات دن سے کم مدت میں قرآن ختم نہیں کرنا چاہیے حالانکہ اسلاف سے کم مدت میں ختم کرنا منقول ہے۔
ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ حکم مخاطب کے ضعف اور عجز کے اعتبار سے ہو۔
یہ بھی احتمال ہے کہ مذکورہ نہی تحریم کے لیے نہ ہو جیسا کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے یہ بات حدیث کے تمام طرق اور سیاق و سباق سے معلوم ہوتی ہے۔
2۔
اہل ظاہر کا موقف محل نظر ہے کہ تین دن سے کم مدت میں قرآن ختم کرنا حرام ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اکثر علمائے کے نزدیک اس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے بلکہ یہ انسان کی قوت و نشاط پر موقوف ہے اور یہ حالات واشخاص کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 122/9)
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھ ڈالوں؟ آپ نے فرمایا: " مہینے میں ایک بار ختم کرو "، میں نے کہا میں اس سے بڑھ کر (یعنی کم مدت میں) ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: " تو بیس دن میں ختم کرو۔" میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی یعنی اور بھی کم مدت میں ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: " پندرہ دن میں ختم کر لیا کرو۔" میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: " دس دن میں ختم کر لیا کرو۔" میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: " پ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب القراءات/حدیث: 2946]
وضاحت:
ایک دن یا تین دن میں ختم کرنے سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا اور تلاوت کرنا زیادہ پسندیدہ ہے۔
نوٹ:
(سند میں ابواسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، نیز حدیث میں یہ ہے کہ اختمه في خمس یعنی پانچ دن میں قرآن ختم کرو، عبداللہ بن عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں پھرکہا کہ رسول اللہﷺ نے اس سے کم دن میں قرآن ختم کرنے کی مجھے اجازت نہیں دی، امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ غرابت بسند ابوبردۃ عن عبداللہ بن عمرو ہے، واضح رہے کہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اُن سے کہا کہ إِقْرَأَ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ قَالَ: إِنِّي أُطِيْقُ أَكْثَرَ فَمَازَالَ حَتّٰى قَالَ: ’’فِي ثَلَاث‘‘ تم ہر مہینے میں قرآن ختم کرو، تو انہوں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں اور برابر یہ کہتے رہے کہ میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہﷺ نے کہا: ’’تین دن میں قرآن ختم کرو‘‘ (خ/الصیام 54 (1978)، اور صحیح بخاری (فضائل القرآن: 34، 5054)، اور صحیح مسلم (صیام 35 /182) وأبوداؤد/ الصلاۃ 325 (1388) میں ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے: فَاقْرَأهُ فِي كُلِّ سَبْع وَلَا تَزِدْ عَلٰى ذٰلِكَ یعنی ہر سات دن پر قرآن ختم کرو، اور ا س سے زیادہ نہ کرو، تو اس سے پتہ چلا کہ فَمَا رَخَّصَ لِي مجھے پانچ دن سے کم کی اجازت نہیں دی کا جملہ شاذ ہے، اور تین دن میں قرآن ختم کرنے کی اجازت محفوظ اور ثابت ہے، اور ایسے ہی دوسری روایت میں سات دن ختم کرنے کی اجازت ہے) اور سبب ضعف ابواسحاق السبیعی ہیں)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: " ایک ماہ میں "، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں (ابوموسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو باربار دہراتے رہے) آپ اسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اسے سات دن میں ختم کیا کرو "، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: " وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے ۱؎۔" [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1390]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: " قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو "، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تو تین دن میں پڑھا کرو۔" ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1391]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " چالیس دن میں "، پھر فرمایا: " ایک ماہ میں "، پھر فرمایا: " بیس دن میں "، پھر فرمایا: " پندرہ دن میں "، پھر فرمایا: " دس دن میں "، پھر فرمایا: " سات دن میں "، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات سے نیچے نہیں اترے۔ [سنن ابي داود/أبواب قراءة القرآن وتحزيبه وترتيله /حدیث: 1395]
کے الفاظ صحیح نہیں۔ کیونکہ صحیح روایت (1391) میں تین دن میں پڑھ کا حکم ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: " قرآن ایک مہینہ میں پڑھا کرو "، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، اور پھر میں برابر آپ سے مطالبہ کرتا رہا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: " پانچ دن میں پڑھا کرو، اور مہینہ میں تین دن روزہ رکھو "، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو میں برابر آپ سے مط۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2402]