حدیث نمبر: 1377
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا أُنَاسٌ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " مَا هَؤُلَاءِ ؟ " فَقِيلَ : هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَابُوا ، وَنِعْمَ مَا صَنَعُوا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : لَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ بِالْقَوِيِّ ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ضَعِيفٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں ، آپ نے پوچھا : ” یہ کون لوگ ہیں ؟ “ ، لوگوں نے عرض کیا : یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے ، لہٰذا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا : ” انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب شهر رمضان / حدیث: 1377
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وللحديث شاھد قوي عند البيهقي (2/495) من حديث ثعلبة بن أبي مالك رضي الله عنه وله رؤية فالحديث حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:14094) (ضعیف) » ( اس کے راوی مسلم متکلم فیہ ہیں ، مولف نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو دیکھا کہ کچھ لوگ رمضان میں مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ رہے ہیں، آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ ، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن یاد نہیں ہے، لہٰذا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پیچھے یہ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا اور ایک بہتر کام کیا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے اس لیے کہ مسلم بن خالد ضعیف ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب شهر رمضان /حدیث: 1377]
1377. اردو حاشیہ: فائدہ: اس روایت کو شیخ البانی نے سنن ابوداؤد میں ضعیف قرار دیا ہے۔ لیکن اپنی ہی کتاب صلوۃ التراویح میں اسے بطور متابع اور شاہد کے قابل قبول قرار دیا ہے اور ایک حسن درجے کی مرسل روایت کی بنیاد پر اس واقعے کی اصلیت کو تسلیم کیا ہے جس سے صلوۃ تراویح کا تقریری ثبوت نبیﷺ سےمہیا ہوتا ہے۔ (دیکھئے: صلاۃ التراویح، للالبانی ص:9)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1377 سے ماخوذ ہے۔