سنن ابي داود
أبواب قيام الليل— ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْقَصْدِ فِي الصَّلاَةِ باب: نماز میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، فَجَاءَهُ ، فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي ؟ " قَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ سُنَّتَكَ أَطْلُبُ ، قَالَ : " فَإِنِّي أَنَامُ ، وَأُصَلِّي ، وَأَصُومُ ، وَأُفْطِرُ ، وَأَنْكِحُ النِّسَاءَ ، فَاتَّقِ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ فَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِضَيْفِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَنَمْ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا ، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عثمان ! کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی ہے ؟ “ ، انہوں نے جواب دیا : نہیں اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ، ایسی بات نہیں ، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو سوتا بھی ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں ، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا ، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ، عثمان ! تم اللہ سے ڈرو ، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے ، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے ، تمہاری جان کا حق ہے ، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو ، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ۱؎ “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عثمان! کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی ہے؟ "، انہوں نے جواب دیا: نہیں اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، عثمان! تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تمہاری جان کا حق ہے، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ۱؎۔" [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1369]