سنن ابي داود
أبواب قيام الليل— ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ، ثُمَّ أَوْتَرَ ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً " .
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ` آج رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) ضرور دیکھ کر رہوں گا ، چنانچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ، پھر دو رکعتیں لمبی ، بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں ، پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی ، پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی ، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی ، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں ، پھر وتر پڑھی ، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
لَأَرْمُقَنَّ: میں گہری اور طویل نظر سے جائزہ لوں گا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا آ پﷺ نماز کا آغاز دو خفیف رکعتوں سے فرماتے تھے اس کے بعد دو انتہائی طویل رکعتیں پڑھتے اس کے بعد ہر بعد والا دوگانہ پہلے سے کم ہوتا جاتا اور آخر میں آپﷺ ایک وتر پڑھ لیتے اور آپﷺ جس طرح خود آغاز میں دو ہلکی رکعتیں پڑھتے دوسروں کو بھی یہی حکم دیتے تھے جیسا کہ آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت آ رہی ہے اگر دو ہلکی رکعات کو شمار نہ کریں تو رکعات گیارہ ہوں گی۔
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا، آپ کھڑے ہوئے، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1362]
فائدہ: گزشتہ روایت میں فجر کی سنتوں سمیت تیرہ رکعتیں مذکور ہیں۔
جب کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی سنتوں کے علاوہ بھی گیارہ کی بجائے تیرہ رکعتیں پڑھنا درست ہے۔
«. . . 312- مالك عن عبد الله بن أبى بكر عن أبيه أن عبد الله بن قيس بن مخرمة أخبره عن زيد بن خالد الجهني أنه قال: لأرمقن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم الليلة. قال: فتوسدت عتبته أو فسطاطه، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين خفيفتين ثم صلى ركعتين طويلتين طويلتين طويلتين، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم أوتر، فذلك ثلاث عشرة ركعة. . . .»
". . . سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں آج رات ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسی نماز پڑھتے ہیں؟ لہٰذا میں آپ کی چوکھٹ یا خیمے کے پاس لیٹ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر دو لمبی لمبی رکعتیں پڑھیں، پھر ان کے بعد دو رکعتیں پڑھیں جو کہ پہلی دو رکعتیں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو کہ پہلی دو رکعتوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور وہ پہلی دو رکعتوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو رکعتوں سے کم تھیں، پھر وتر پڑھا تو یہ (کل) تیرہ رکعتیں تھیں . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 164]
تفقه:
➊ عشاء کی دوسنتوں کو ملا کر رات کی نفل نمازکل تیرہ رکعتیں ہیں جن میں سے گیارہ رکعتیں عوام میں تہجد کے نام سے مشہور ہیں۔ ہی رکعتیں رمضان میں تراویح کہلاتی ہیں۔
➋ صحابۂ کرام دین سیکھنے کے لئے ہر وقت مستعد رہتے تھے۔
➌ دین سیکھنے سکھانے کے لئے صحابہ کرام ہر وقت مستعد رہتے تھے۔
➍ علم سیکھنے سکھانے کے دوران میں جو سختیاں آئیں، ان پر صبر کرنا چاہئے۔
➎ نیز دیکھئے [الموطأ حديث: 36، 417، البخاري 2013، 1129، ومسلم 738]