حدیث نمبر: 136
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء دو دو بار دھلے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 136
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطھارة 33 (43)، (تحفة الأشراف: 13940)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288، 364) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 43 | سنن ابي داود: 140 | صحيح مسلم: 237 | سنن ابن ماجه: 445 | سنن نسائي: 86 | صحيفه همام بن منبه: 82

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 43 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اعضائے وضو کے دو دو بار دھونے کا بیان​۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 43]
اردو حاشہ:
1؎:
ہمام بن یحییٰ اورعامر الأحول دونوں سے وہم ہو جایا کرتا تھا، تو ایسا نہ ہو کہ اس روایت میں ان دونوں میں سے کسی سے وہم ہو گیا ہو اور بجائے دو دو کے تین تین روایت کردی ہو، ویسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری (ضعیف) سند سے ابن ماجہ (رقم: 415) میں ایسی ہی روایت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 43 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 140 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ناک میں پانی ڈالنا اور اسے صاف کرنا`
«. . . أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر جھاڑے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 140]
فوائد و مسائل:
ناک میں پانی ڈالنا اور اسے صاف کرنا وضو کے واجبات سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 140 سے ماخوذ ہے۔