سنن ابي داود
أبواب قيام الليل— ابواب: قیام الیل کے احکام و مسائل
باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنْظُرَ كَيْفَ يُصَلِّي ، " فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ قِيَامُهُ مِثْلُ رُكُوعِهِ وَرُكُوعُهُ مِثْلُ سُجُودِهِ ، ثُمَّ نَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ ، ثُمَّ قَرَأَ بِخَمْسِ آيَاتٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سورة آل عمران آية 190 فَلَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ هَذَا حَتَّى صَلَّى عَشْرَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى سَجْدَةً وَاحِدَةً فَأَوْتَرَ بِهَا وَنَادَى الْمُنَادِي عِنْدَ ذَلِكَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ ، فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : خَفِيَ عَلَيَّ مِنْ ابْنِ بَشَّارٍ بَعْضُهُ .
´فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں ، تو آپ اٹھے اور وضو کیا ، پھر دو رکعتیں پڑھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے ، پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا ، پھر سورۃ آل عمران کی یہ پانچ آیتیں «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار» ( آل عمران : ۱۹۰ ) اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس رکعتیں ادا کیں ، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر ( طاق ) کر لیا ، اس وقت مؤذن نے اذان دی ، مؤذن خاموش ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو آپ اٹھے اور وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا، پھر سورۃ آل عمران کی یہ پانچ آیتیں «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار» (آل عمران: ۱۹۰) اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس رکعتیں ادا کیں، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر (طاق) کر لیا، اس وقت مؤذن نے اذان دی، مؤذن خاموش ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1355]
➌